Etiquette & Sunnahs of Visiting & Hospitality in the Quran & Sunnah
Etiquette & Sunnahs of Visiting & Hospitality in the Quran & Sunnah
حصہ اول: قرآنِ کریم کی روشنی میں مہمان کے آداب
1۔ مہمان کا عزت و احترام کرنا
اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معزز مہمانوں کا واقعہ بیان فرماتا ہے:
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا قَالَ سَلَامٌ
ترجمہ: ’’کیا آپ کے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے؟ جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے جواب میں سلام کہا۔‘‘
آگے بیان ہوا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لے آئے۔
حوالہ: سورۃ الذاریات، آیات 24–27۔
2۔ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو، یہاں تک کہ اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام کر لو۔‘‘
حوالہ: سورۃ النور، آیت 27۔
3۔ اجازت نہ ملے تو واپس آ جانا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ
ترجمہ: ’’اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جاؤ۔ یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔‘‘
حوالہ: سورۃ النور، آیت 28۔
عملی سبق: اگر میزبان اس وقت ملاقات نہیں کر سکتا تو ناراض ہونے یا اصرار کرنے کے بجائے اس کی بات کا احترام کرنا چاہیے۔
حصہ دوم: مہمان کی عزت و خدمت سے متعلق احادیث
4۔ مہمان کی عزت کرنا ایمان کا تقاضا ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ
ترجمہ: ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔‘‘
5۔ مہمان کے لیے کھانے کا اہتمام کرنا
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں قرآن بتاتا ہے کہ آپ علیہ السلام اپنے مہمانوں کے لیے کھانا لے کر آئے۔
حوالہ: سورۃ الذاریات، آیات 24–27۔
6۔ مہمان کی میزبانی میں پہلے دن اور رات کا خصوصی اہتمام
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مہمان کے لیے ایک دن اور رات خصوصی میزبانی کا حق ہے، اور مہمان نوازی تین دن تک ہے۔ اس سے زیادہ جو کچھ پیش کیا جائے، وہ میزبان کی طرف سے صدقہ ہے۔
وضاحت: حدیث کے الفاظ میں پہلے دن اور رات کے خصوصی اہتمام اور تین دن کی میزبانی کا فرق بیان ہوا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ ہر مہمان کو لازماً تین دن ٹھہرنا چاہیے یا ہر گھر کی استطاعت سے قطع نظر یکساں خرچ لازم ہے۔
7۔ میزبان کو تنگی میں ڈالنے تک قیام نہ کرنا
اسی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مہمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں اتنا ٹھہرا رہے کہ اسے تنگی اور پریشانی میں ڈال دے۔
عملی سبق: مہمان کو میزبان کے حالات، وقت اور سہولت کا خیال رکھنا چاہیے۔ بلا ضرورت قیام طول دینا یا اپنی موجودگی سے میزبان کو پریشان کرنا درست نہیں۔
8۔ معمولی دعوت کو بھی حقیر نہ سمجھنا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر مجھے بکری کے پائے کی دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کروں گا، اور اگر مجھے بکری کا پایہ ہدیہ دیا جائے تو میں اسے قبول کروں گا۔
عملی سبق: دعوت دینے والے کے کھانے کی مقدار یا قیمت دیکھ کر اسے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ خلوص اور محبت سے دی گئی معمولی دعوت بھی قابلِ قدر ہے۔
حصہ سوم: دعوت قبول کرنے کے آداب
9۔ دعوت قبول کرنا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے۔
یہ روایت عمومی دعوت کے حق کی دلیل ہے۔ ہر دعوت کے حکم، عذر اور صورت کے بارے میں فقہی تفصیل الگ ہے۔
10۔ ولیمے کی دعوت قبول کرنا
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا
ترجمہ: ’’جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں حاضر ہو۔‘‘
11۔ دعوت میں صرف امیروں کو بلانا اور غریبوں کو نظر انداز کرنا
صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ بدترین کھانا اس ولیمے کا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے۔
12۔ روزے کی حالت میں دعوت ملے تو میزبان کو بتا دینا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو وہ کہے:
إِنِّي صَائِمٌ
ترجمہ: ’’میں روزے سے ہوں۔‘‘
عملی سبق: روزے دار میزبان کو ادب سے بتا سکتا ہے کہ وہ روزے سے ہے۔ اس طرح میزبان کی دعوت کا احترام بھی برقرار رہتا ہے اور روزے کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے۔
13۔ روزے دار میزبان کے لیے دعا کرے
ایک دوسری روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب روزے دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ دعوت قبول کرے؛ اگر روزے سے ہو تو میزبان کے لیے دعا کرے۔
حصہ چہارم: مہمان کے گھر آنے، اجازت اور سلام کے آداب
14۔ گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنا
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دوسرے کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے اور اہلِ خانہ کو سلام کرنے کی ہدایت دی ہے۔
حوالہ: سورۃ النور، آیت 27۔
عملی سبق: گھر پہنچ کر سلام کرنا چاہیے اور اندر آنے سے پہلے اجازت حاصل کرنی چاہیے۔ گھر کا دروازہ کھلا دیکھ کر یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اندر آنا جائز ہے۔
15۔ تین مرتبہ اجازت مانگنا، پھر واپس چلے جانا
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کے لیے تین مرتبہ اجازت طلب کرتے رہے۔ اجازت نہ ملنے پر وہ واپس چلے گئے۔ انہوں نے اس عمل کے لیے رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کا حوالہ دیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اجازت نہ ملے تو اسے واپس چلے جانا چاہیے۔
16۔ میزبان کے انکار پر اصرار نہ کرنا
قرآن مجید میں ہدایت ہے کہ اگر کسی گھر والے کی طرف سے واپس جانے کو کہا جائے تو واپس چلے جائیں۔
حوالہ: سورۃ النور، آیت 28۔
عملی سبق: مہمان کو اپنی آمد کو میزبان پر لازم نہیں بنانا چاہیے۔ اگر وقت مناسب نہیں یا گھر والے مصروف ہیں تو ان کے عذر کو تسلیم کرے۔
حصہ پنجم: میزبان کے لیے مہمان نوازی کی مسنون دعائیں
17۔ کھانے کے بعد میزبان کے لیے دعا کرنا
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے والد کے گھر تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے کھانا کھایا تو ان کے والد نے عرض کیا کہ ہمارے لیے دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے دعا کی:
اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ
ترجمہ: ’’اے اللہ! جو رزق تو نے انہیں دیا ہے، اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے اور ان پر رحم فرما۔‘‘
18۔ میزبان کے لیے یہ مسنون دعا پڑھنا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے روٹی اور زیتون کا تیل پیش کیا۔ کھانے کے بعد آپ ﷺ نے دعا فرمائی:
أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ
ترجمہ: ’’تمہارے ہاں روزے دار افطار کریں، تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں، اور فرشتے تمہارے لیے دعا کریں۔‘‘
حصہ ششم: مہمان کے عمومی اخلاق
19۔ گفتگو میں اچھی بات کہنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
عملی سبق: ملاقات میں غیبت، تذلیل، جھوٹ اور ایسی گفتگو سے بچنا چاہیے جو میزبان یا دوسرے مہمانوں کو تکلیف دے۔ یہ عمومی نبوی ادب ہے اور مہمانوں کی مجلس میں بھی اس کا لحاظ ضروری ہے۔
20۔ کھانے میں عیب نہ نکالنا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا؛ اگر کھانا پسند آتا تو کھا لیتے اور اگر پسند نہ آتا تو چھوڑ دیتے۔
عملی سبق: میزبان کے کھانے کو برا بھلا کہنے، اس کی کوشش کا مذاق اڑانے یا اسے دوسروں کے سامنے شرمندہ کرنے سے بچنا چاہیے۔ یہ روایت کھانے کے عمومی ادب سے متعلق ہے، لیکن مہمان کی حیثیت سے بھی اس پر عمل کرنا مناسب ہے۔
21۔ میزبان کے گھر کی سہولت اور نجی معاملات کا احترام کرنا
قرآن مجید میں اجازت لینے اور واپس جانے کی تعلیم دی گئی ہے، جبکہ صحیح بخاری میں مہمان کے میزبان کو تنگی میں ڈالنے تک قیام کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
Adab No. 18 — all evidences for this entry, taken from the DeenHub Global library. Open any link to read the original hadith or ayah in full.
- Point 1: Surah Adh-Dhariyat (51), Ayah 24
- Point 2: Surah An-Nur (24), Ayah 27
- Point 3: Surah An-Nur (24), Ayah 28
- Point 4: Sahih al-Bukhari 6018 (Sahih) · Sahih Muslim 47a (Sahih)
- Point 5: Surah Adh-Dhariyat (51), Ayah 26
- Point 6: Sahih Muslim 48 (Sahih)
- Point 7: Sahih al-Bukhari 6019 (Sahih)
- Point 8: Sahih al-Bukhari 2568 (Sahih)
- Point 9: Sahih al-Bukhari 1240 (Sahih)
- Point 10: Sahih al-Bukhari 5173 (Sahih)
- Point 11: Sahih al-Bukhari 5177 (Sahih)
- Point 12: Sahih Muslim 1150 (Sahih)
- Point 13: Sahih Muslim 1431 (Sahih)
- Point 14: Surah An-Nur (24), Ayah 27
- Point 15: Sahih al-Bukhari 6245 (Sahih)
- Point 16: Surah An-Nur (24), Ayah 28
- Point 17: Sahih Muslim 2042a (Sahih)
- Point 18: Sunan Abu Dawud 3854 (Sahih (Al-Albani))
- Point 19: Sahih al-Bukhari 6018 (Sahih)
- Point 20: Sahih al-Bukhari 3563 (Sahih)
- Point 21: Surah An-Nur (24), Ayah 28 · Sahih Muslim 48 (Sahih)
