Etiquette & Sunnahs of Debt (Qard) in the Quran & Sunnah
Etiquette & Sunnahs of Debt (Qard) in the Quran & Sunnah
حصہ اول: قرآنِ کریم کی روشنی میں قرض کے آداب
1۔ قرض کی رقم اور ادائیگی کی مدت لکھنا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! جب تم ایک مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔‘‘
حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 282۔
عملی سبق: قرض دینے یا لینے کے وقت رقم، تاریخ، ادائیگی کی مدت اور اہم شرائط تحریر کرنی چاہییں۔ اس سے بعد میں اختلاف اور بھول چوک کا امکان کم ہوتا ہے۔
2۔ قرض کا معاہدہ انصاف کے ساتھ لکھوانا
اسی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لکھنے والا انصاف کے ساتھ تحریر کرے، قرض دار خود اپنی ذمہ داری درست طور پر بیان کرے، اور اس میں کوئی کمی نہ کرے۔
حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 282۔
ادب: قرض کی دستاویز میں ایسی شرط شامل نہیں کرنی چاہیے جو اصل معاہدے کو غلط ظاہر کرے یا کسی فریق کا حق چھپائے۔ قرض کی رقم، ادائیگی اور متعلقہ شرائط واضح ہوں۔
عملی سبق: خصوصاً بڑی رقم یا طویل مدت کے قرض میں معاہدہ اور گواہی تنازعات سے حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ آیت میں فوری نقد لین دین کے لیے الگ وضاحت بھی موجود ہے۔
3۔ تنگ دست قرض دار کو مہلت دینا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ
ترجمہ: ’’اور اگر قرض دار تنگ دست ہو تو اسے آسانی حاصل ہونے تک مہلت دی جائے۔‘‘
پھر فرمایا:
وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
ترجمہ: ’’اور اگر تم قرض کو صدقہ کر کے معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘
حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 280۔
سبق: جو قرض دار حقیقتاً ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتا، اسے مہلت دینا چاہیے۔ اور اگر قرض خواہ اپنا کچھ یا پورا حق معاف کر دے تو یہ صدقہ اور بھلائی کا عمل ہے۔
4۔ سود سے پاک قرض دینا اور سودی اضافہ نہ لینا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا
ترجمہ: ’’اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔‘‘
حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 275۔
مزید فرمایا:
فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
ترجمہ: ’’تمہارے لیے تمہارا اصل مال ہے؛ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘
حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 279۔
عملی سبق: قرض کو اس شرط سے نہ باندھیں کہ قرض دار مقررہ رقم سے زیادہ واپس کرے گا۔ قرض کے ساتھ مشروط مالی فائدے اور سودی اضافے کے احکام میں فقہی تفصیل موجود ہے؛ کسی مخصوص معاہدے کا حکم اس کی شرائط دیکھ کر معلوم کیا جائے۔
5۔ قرض دار کی مالی استطاعت کا لحاظ رکھنا
سورۃ البقرہ کی آیت 280 قرض خواہ کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ اگر قرض دار مالی تنگی میں ہو تو اسے آسانی تک مہلت دی جائے۔
حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 280۔
عملی سبق: قرض دار واقعی تنگ دست ہو تو اس کی صورت حال کو سمجھنا چاہیے۔ اس سے اس انداز میں تقاضا نہیں کرنا چاہیے کہ اس کی بنیادی ضرورتیں متاثر ہوں، بلکہ باہمی رضامندی سے مناسب مہلت طے کرنی چاہیے۔
6۔ مرحوم کے قرض کی ادائیگی کا اہتمام کرنا
اللہ تعالیٰ نے وراثت کے احکام بیان کرتے ہوئے متعدد مقامات پر قرض اور وصیت کا ذکر کیا ہے۔ حوالہ: سورۃ النساء، آیت 11۔
حصہ دوم: قرض لینے والے کے آداب و سنن
7۔ قرض لیتے وقت ادائیگی کی سچی نیت رکھنا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ، وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ»
ترجمہ: ’’جو شخص لوگوں کا مال اس نیت سے لیتا ہے کہ اسے واپس کرے گا، اللہ اس کی طرف سے ادائیگی میں مدد فرماتا ہے، اور جو اسے ضائع کرنے کی نیت سے لیتا ہے، اللہ اسے تباہ کر دیتا ہے۔‘‘
ادب: قرض لیتے وقت دل میں اسے واپس کرنے کا ارادہ ہو۔ کسی کو دھوکا دینے یا واپس نہ کرنے کی نیت سے قرض لینا سخت گناہ ہے۔
8۔ اپنی استطاعت اور ضرورت دیکھ کر قرض لینا
رسول اللہ ﷺ قرض سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ ﷺ دعا میں فرماتے:
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ»
ترجمہ: ’’اے اللہ! میں گناہ اور قرض کے بوجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘
جب پوچھا گیا کہ آپ ﷺ قرض سے اتنی پناہ کیوں مانگتے ہیں تو آپ ﷺ نے قرض کے سبب جھوٹ بولنے اور وعدہ خلافی کا اندیشہ بیان فرمایا۔
عملی سبق: ضرورت کے بغیر قرض کے بوجھ میں خود کو نہیں ڈالنا چاہیے۔ پہلے اپنی آمدنی، ادائیگی کی صلاحیت اور قرض کی اصل ضرورت پر غور کرنا چاہیے۔ یہ قرض لینے کی مطلق ممانعت نہیں، بلکہ اس کے خطرات سے بچنے کی تعلیم ہے۔
9۔ قرض واپس کرنے میں وعدہ خلافی نہ کرنا
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے قرض کے ایک خطرے کی وضاحت فرمائی کہ آدمی بات کرے تو جھوٹ بولے اور وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔
سبق: قرض کی واپسی کی تاریخ طے ہو تو اسے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر حقیقی مالی مشکل پیش آ جائے تو خاموشی یا جھوٹ کے بجائے قرض خواہ سے رابطہ کر کے صورت حال واضح کرنی چاہیے۔
10۔ قرض ادا کرنے کی نیت کے ساتھ اللہ پر بھروسا رکھنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں کا مال واپس کرنے کی نیت سے لیتا ہے، اللہ اس کی ادائیگی میں مدد فرماتا ہے۔
11۔ قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول نہ کرنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ»
ترجمہ: ’’صاحبِ استطاعت شخص کا قرض ادا کرنے میں تاخیر کرنا ظلم ہے۔‘‘
ادب: جس قرض دار کے پاس ادائیگی کی استطاعت ہو، وہ جان بوجھ کر قرض خواہ کو انتظار نہ کروائے۔ یہ وعید صاحبِ استطاعت کے بارے میں ہے، نہ کہ اس شخص کے بارے میں جو واقعی ادائیگی سے عاجز ہو۔
12۔ قرض ادا کرتے وقت اچھا برتاؤ کرنا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے قرض لیا، پھر ادائیگی کے وقت اس سے بہتر عمر کا اونٹ دیا اور فرمایا:
«فَإِنَّ خَيْرَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً»
ترجمہ: ’’تم میں بہترین وہ ہیں جو قرض ادا کرنے میں بہترین ہوں۔‘‘
سبق: قرض واپس کرتے وقت خوش دلی، شائستگی اور بہتر ادائیگی کا رویہ اختیار کرنا اچھا عمل ہے۔
13۔ قرض کے بوجھ سے نجات کی دعا کرنا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ.
ترجمہ: اے اللہ! میں فکر اور غم، عاجزی اور سستی، بزدلی اور بخل، قرض کے بھاری بوجھ اور لوگوں کے غالب آ جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
14۔ حلال روزی اور قرض سے نجات کی دعا
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مالی ذمہ داری پوری کرنے میں مدد چاہی تو انہوں نے اسے وہ الفاظ سکھائے جو رسول اللہ ﷺ نے سکھائے تھے:
اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ.
ترجمہ: اے اللہ! اپنے حلال کے ذریعے مجھے حرام سے بچا کر کافی کر دے، اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا دوسروں سے بے نیاز کر دے۔
15۔ قرض کے معاملے کو معمولی نہ سمجھنا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ»
ترجمہ: ’’مومن کی جان اس کے قرض کے ساتھ وابستہ رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کی طرف سے قرض ادا کر دیا جائے۔‘‘
16۔ شہادت کی فضیلت کے باوجود قرض کے حق کی اہمیت سمجھنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے کے گناہ معاف ہوتے ہیں، سوائے قرض کے۔
سبق: بندوں کے مالی حقوق بہت اہم ہیں۔ اگر کسی کے ذمے قرض ہو تو اسے لکھ کر محفوظ رکھنا، ادا کرنے کی کوشش کرنا اور اپنے ورثاء کو اس کی خبر دینا مفید ہے۔
حصہ سوم: قرض دینے والے کے آداب و سنن
17۔ قرض دار پر غیر ضروری سختی نہ کرنا
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دے، اسے چاہیے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے۔‘‘
سبق: اگر قرض دار حقیقتاً تنگ دست ہو تو اس کے حالات کا لحاظ کرنا چاہیے اور اسے مناسب مہلت دینی چاہیے۔
18۔ قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا
قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ تنگ دست قرض دار کو مہلت دی جائے اور قرض معاف کر دینا بہتر ہے۔
حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 280۔
اسی مضمون پر رسول اللہ ﷺ نے قرض دار کو مہلت دینے یا قرض معاف کرنے کی ترغیب دی۔
عملی سبق: قرض خواہ چاہے تو اپنی خوشی سے کچھ رقم یا پورا قرض معاف کر سکتا ہے۔ قرض معاف کرتے وقت اس کا حق اور اپنی استطاعت دونوں ملحوظ رکھے۔
19۔ قرض وصول کرتے وقت نرمی اختیار کرنا
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى»
ترجمہ: ’’اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور اپنا حق وصول کرتے وقت نرمی اختیار کرے۔‘‘
سبق: قرض واپس مانگنا حق ہے، لیکن مطالبے میں شائستگی اور انصاف اختیار کرنا چاہیے۔ قرض دار کو ذلیل کرنے، گالی دینے یا اس کی بے عزتی کرنے سے بچنا چاہیے۔
20۔ قرض دار کو مہلت دینا صدقے کا ذریعہ ہے
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو تنگ دست قرض دار کو مہلت دیتا ہے، اسے ہر دن کے بدلے صدقے جیسا اجر ملتا ہے۔
21۔ قرض معاف کرنے والے کی مغفرت کی امید
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے تاجر کا ذکر فرمایا جو لوگوں کو قرض دیتا تھا۔ جب وہ کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے ملازمین سے کہتا کہ اسے معاف کر دو، شاید اللہ ہمیں معاف فرما دے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا۔
22۔ قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرنے کا حق تسلیم کرنا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ سخت لہجے میں کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے روکنا چاہا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، کیونکہ حق والے کو بات کہنے کا حق ہے، پھر اس کا قرض ادا کرنے کا حکم دیا۔
قرض سے متعلق مسنون دعائیں
23۔ گناہ اور قرض سے پناہ مانگنا
رسول اللہ ﷺ دعا فرماتے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ
ترجمہ: اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
24۔ قرض کے بھاری بوجھ سے پناہ کی جامع دعا
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ.
ترجمہ: اے اللہ! میں فکر و غم، عاجزی و سستی، بزدلی و بخل، قرض کے بھاری بوجھ اور لوگوں کے غالب آ جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
25۔ حلال روزی اور دوسروں سے بے نیازی کی دعا
اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ.
ترجمہ: اے اللہ! اپنے حلال کے ذریعے مجھے حرام سے بچا کر کافی کر دے، اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا دوسروں سے بے نیاز کر دے۔
Adab No. 47 — all evidences for this entry, taken from the DeenHub Global library. Open any link to read the original hadith or ayah in full.
- Point 1: Surah Al-Baqarah (2), Ayah 282
- Point 2: Surah Al-Baqarah (2), Ayah 282
- Point 3: Surah Al-Baqarah (2), Ayah 280
- Point 4: Surah Al-Baqarah (2), Ayah 275 · Surah Al-Baqarah (2), Ayah 279
- Point 5: Surah Al-Baqarah (2), Ayah 280
- Point 6: Surah An-Nisa (4), Ayah 11
- Point 7: Sahih al-Bukhari 2387 (Sahih)
- Point 8: Sahih al-Bukhari 6368 (Sahih)
- Point 9: Sahih Muslim 589 (Sahih)
- Point 10: Sahih al-Bukhari 2387 (Sahih)
- Point 11: Sahih al-Bukhari 2400 (Sahih)
- Point 12: Sahih Muslim 1601a (Sahih)
- Point 13: Sahih al-Bukhari 6363 (Sahih)
- Point 14: Jami' at-Tirmidhi 3563 (Hasan (Darussalam))
- Point 15: Jami' at-Tirmidhi 1078 (Hasan (Darussalam))
- Point 16: Sahih Muslim 1886a (Sahih)
- Point 17: Sahih Muslim 1563a (Sahih)
- Point 18: Surah Al-Baqarah (2), Ayah 280 · Sahih Muslim 1563a (Sahih)
- Point 19: Sahih al-Bukhari 2076 (Sahih)
- Point 20: Sunan Ibn Majah 2418 (Sahih (Darussalam))
- Point 21: Sahih al-Bukhari 2078 (Sahih)
- Point 22: Sahih al-Bukhari 2390 (Sahih)
- Point 23: Sahih al-Bukhari 6368 (Sahih)
- Point 24: Sahih al-Bukhari 6363 (Sahih)
- Point 25: Jami' at-Tirmidhi 3563 (Hasan (Darussalam))
