Etiquette & Sunnahs of Trade & Business in the Quran & Sunnah
Etiquette & Sunnahs of Trade & Business in the Quran & Sunnah
Honesty, ease and leniency in buying and selling.
حصہ اول: قرآنِ کریم کی روشنی میں تجارت کے آداب
1۔ ناجائز طریقے سے مال نہ کھانا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ
ترجمہ: ’’اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔‘‘
آیت میں حکام تک مال پہنچا کر ناجائز طور پر دوسروں کا مال حاصل کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 188۔
ادب: رشوت، فراڈ، جعلی بل، غلط حساب، خیانت اور دوسرے کے حق کو ناجائز طریقے سے حاصل کرنے سے بچنا چاہیے۔
2۔ ناپ تول پورا رکھنا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
ترجمہ: ’’جب ناپو تو پورا ناپو، اور سیدھی ترازو سے تولو۔‘‘
حوالہ: سورۃ الإسراء، آیت 35۔
مزید فرمایا:
أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ
ترجمہ: ’’پورا ناپو اور نقصان پہنچانے والوں میں سے نہ بنو۔‘‘
حوالہ: سورۃ الشعراء، آیت 181۔
ادب: وزن، پیمائش، تعداد اور معیار میں خریدار کا حق مکمل ادا کرنا چاہیے۔
3۔ ادھار کے معاملات لکھنا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ
ترجمہ: ’’جب تم ایک مقررہ مدت تک ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔‘‘
حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 282۔
ادب: ادھار کی رقم، ادائیگی کی تاریخ اور معاہدے کی شرائط واضح لکھنی چاہییں۔ آیت میں فوری لین دین کی صورت کے لیے الگ وضاحت بھی موجود ہے۔
4۔ تجارت کی وجہ سے نماز سے غافل نہ ہونا
اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کی صفت بیان فرماتا ہے:
لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ
ترجمہ: ’’تجارت اور خرید و فروخت انہیں اللہ کے ذکر اور نماز قائم کرنے سے غافل نہیں کرتی۔‘‘
حوالہ: سورۃ النور، آیت 37۔
اور جمعہ کی اذان کے بعد فرمایا کہ تجارت چھوڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف آؤ۔
حوالہ: سورۃ الجمعہ، آیات 9–10۔
ادب: دینی فرائض کو تجارت پر مقدم رکھنا چاہیے۔ جمعہ کی نماز کے لیے شرعی طور پر جن پر جانا لازم ہے، انہیں اذان کے بعد خرید و فروخت چھوڑ کر نماز کی طرف جانا چاہیے۔
حصہ دوم: خرید و فروخت کے مثبت آداب — صحیح و حسن احادیث
5۔ خرید و فروخت میں سچ بولنا
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا»
ترجمہ: ’’اگر خریدار اور فروخت کنندہ سچ بولیں اور حقیقت واضح کر دیں تو ان کے سودے میں برکت دی جاتی ہے۔‘‘
اگر وہ جھوٹ بولیں یا حقیقت چھپائیں تو سودے کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔
حوالے: صحیح بخاری، حدیث 2079؛ صحیح مسلم، حدیث 1532a۔
ادب: مال کی خوبیوں کے ساتھ اس کے اہم نقائص بھی بتانے چاہییں۔ اصل قیمت، معیار، استعمال کی حالت اور ضروری معلومات نہیں چھپانی چاہییں۔
6۔ خریدار کو دھوکا نہ دینا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»
ترجمہ: ’’جو ہمیں دھوکا دے، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، حدیث 101۔
ادب: جعلی چیز کو اصلی ظاہر کرنا، خراب مال کو درست بتانا، جھوٹی ضمانت دینا یا جان بوجھ کر عیب چھپانا اس ممانعت میں شامل ہو سکتا ہے۔
7۔ مال کی حقیقت واضح کرنا اور عیب چھپانے سے بچنا
گزشتہ حدیث کے علاوہ، رسول اللہ ﷺ نے خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کے سچ بولنے اور عیب و خوبی واضح کرنے کی تاکید فرمائی۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2079۔
عملی مثالیں: استعمال شدہ موبائل بیچتے وقت خرابی بتائیں، گاڑی کا اہم نقص نہ چھپائیں، میعاد ختم ہونے والا سامان مناسب طور پر واضح کریں، اور تشہیر میں ایسی خوبی نہ لکھیں جو حقیقت میں موجود نہ ہو۔
یہ مثالیں حدیث کے عمومی اصول کا اطلاق ہیں۔
8۔ تجارت میں نرمی اور خوش اخلاقی اختیار کرنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى»
ترجمہ: ’’اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور اپنا حق وصول کرتے وقت نرمی اختیار کرے۔‘‘
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2076۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ اللہ اس شخص کو جنت میں داخل فرمائے جو خرید و فروخت میں نرم مزاج ہو۔
حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث 2202 — صحیح، دارالسلام۔
ادب: سودا کرتے وقت بدزبانی، ذلت آمیز رویے، غیر ضروری سختی اور حق وصول کرتے وقت بے جا تشدد سے بچنا چاہیے۔
9۔ تجارت میں کثرت سے قسمیں کھانے سے بچنا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الْحَلِفُ مُنَفِّقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مُمْحِقَةٌ لِلْبَرَكَةِ»
ترجمہ: ’’قسم مال کو فروخت کروا دیتی ہے، لیکن برکت مٹا دیتی ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2087۔
ادب: خریدار کو قائل کرنے کے لیے بار بار قسمیں نہیں کھانی چاہییں، اور کبھی جھوٹی قسم کے ذریعے سودا مکمل نہیں کرنا چاہیے۔
10۔ تجارت میں صدقہ کرنا
حضرت قیس بن ابی غرَزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تاجروں سے فرمایا کہ کاروبار میں کبھی غیر ضروری گفتگو اور قسم شامل ہو جاتی ہے، اس لیے اسے صدقے کے ساتھ ملاؤ۔
حوالہ: سنن ابی داؤد، حدیث 3326 — صحیح، البانی۔
ادب: سچائی اور نرمی کے ساتھ تجارت کرنی چاہیے، اور صدقہ و خیرات کو اپنے معمولات میں شامل رکھنا چاہیے۔
11۔ خریدار کو سودا واپس کرنے میں آسانی دینا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ سودا منسوخ کرنے پر رضامندی ظاہر کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کی لغزش معاف فرمائے گا۔
حوالہ: سنن ابی داؤد، حدیث 3460 — صحیح، البانی۔
ادب: اگر خریدار کسی جائز وجہ سے سودا واپس کرنا چاہے اور آپ اسے قبول کر سکتے ہوں، تو رعایت اور خیر خواہی کا مظاہرہ کرنا باعثِ اجر ہے۔ اس روایت سے ہر صورت میں غیر مشروط واپسی لازمی ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
حصہ سوم: دھوکے، ناجائز مقابلے اور غلط تجارتی طریقوں سے بچنا
12۔ جعلی بولی لگا کر قیمت بڑھانے سے بچنا
رسول اللہ ﷺ نے نجش سے منع فرمایا ہے۔ نجش یہ ہے کہ کوئی شخص خود خریدنے کا ارادہ نہ رکھتے ہوئے محض قیمت بڑھانے کے لیے بولی لگائے تاکہ اصل خریدار زیادہ قیمت دے۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2142۔
عملی مثال: نیلامی میں فرضی خریدار بنا کر قیمت بڑھانا، یا اپنے ساتھیوں سے جھوٹی بولیاں لگوانا اس ممانعت کی مثال ہو سکتی ہے۔
13۔ دوسرے کے طے شدہ سودے پر اپنا سودا نہ لگانا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2139۔
ادب: کسی جاری سودے کو خراب کرنے کے لیے خریدار کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ اس شخص سے مت خریدو، میں تمہیں بہتر سودا دیتا ہوں۔ اس ممانعت کی عملی حدود معاملے کے مرحلے اور فقہی تفصیل کے مطابق ہیں۔
14۔ مال بازار پہنچنے سے پہلے بیچنے والے کا ناجائز فائدہ نہ اٹھانا
رسول اللہ ﷺ نے قافلے سے بازار پہنچنے سے پہلے راستے میں مال خرید لینے سے منع فرمایا، کیونکہ فروخت کنندہ کو بازار کی قیمتوں کا مکمل علم نہ ہو سکتا ہے۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2150۔
ادب: دوسرے فریق کی لاعلمی سے فائدہ اٹھا کر اسے غیر منصفانہ قیمت پر سودا کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔ اس حدیث کی مخصوص تجارتی صورت کو ہر براہِ راست خریداری پر بلا تحقیق لاگو نہیں کرنا چاہیے۔
15۔ جان بوجھ کر عیب یا خرابی کو اچھا ظاہر نہ کرنا
رسول اللہ ﷺ نے ایک جانور کی فروخت میں اس کے دودھ کو ایک عرصے تک نہ نکال کر خریدار کو زیادہ دودھ دکھانے کی دھوکا دہی سے منع فرمایا۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2148۔
ادب: مال کی حالت کو جان بوجھ کر ایسا نہیں بنانا چاہیے کہ خریدار حقیقت سے مختلف نتیجہ اخذ کرے۔ اس روایت میں اس مخصوص جانور کے معاملے میں خریدار کے لیے واپس کرنے یا رکھنے کا اختیار بھی بیان ہوا ہے۔
16۔ جو چیز اپنے پاس نہ ہو، اس کی فروخت میں احتیاط کرنا
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ»
ترجمہ: ’’جو چیز تمہارے پاس نہیں، اسے فروخت نہ کرو۔‘‘
حوالہ: سنن ابی داؤد، حدیث 3503 — صحیح، البانی۔
وضاحت: اس حدیث کو ہر آن لائن آرڈر، ایجنسی، وکالت یا پیشگی فروخت کی یکساں ممانعت نہیں سمجھنا چاہیے۔ بیعِ سلم اور ایجنسی جیسے معاملات کے الگ شرعی قواعد ہیں۔ فیصلہ اصل معاہدے کی صورت دیکھ کر کیا جائے گا۔
17۔ شرعاً ممنوع چیزوں کی تجارت سے بچنا
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی فروخت کو حرام قرار دیا۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 2236۔
ادب: تجارت میں صرف منافع نہیں بلکہ فروخت ہونے والی چیز کا شرعی حکم بھی اہم ہے۔ مخصوص مصنوعات، اجزاء یا خدمات کے حکم کے لیے ان کی حقیقت اور شرعی تفصیل دیکھنی چاہیے۔
18۔ سودی لین دین سے بچنا
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے، سود دینے والے، اسے لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والوں کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی۔
حوالہ: صحیح مسلم، حدیث 1598۔
جامع ترمذی میں بھی سود سے متعلق روایت آئی ہے:
حوالہ: جامع ترمذی، حدیث 1206 — امام ترمذی کے مطابق حسن صحیح۔
ادب: قرض پر سودی اضافہ، سودی شرطیں اور ربوی تبادلے کے ممنوع طریقوں سے بچنا چاہیے۔ جدید فنانسنگ، کریڈٹ اور قسطوں کے معاہدوں کا حکم ان کی اصل شرائط دیکھ کر معلوم کرنا چاہیے۔
Adab No. 29 — all evidences for this entry, taken from the DeenHub Global library. Open any link to read the original hadith or ayah in full.
- Point 1: Surah Al-Baqarah (2), Ayah 188
- Point 2: Surah Al-Isra (17), Ayah 35 · Surah Ash-Shu'ara (26), Ayah 181
- Point 3: Surah Al-Baqarah (2), Ayah 282
- Point 4: Surah An-Nur (24), Ayah 37 · Surah Al-Jumu'ah (62), Ayah 9
- Point 5: Sahih al-Bukhari 2079 (Sahih) and Sahih Muslim 1532a (Sahih)
- Point 6: Sahih Muslim 101 (Sahih)
- Point 7: Sahih al-Bukhari 2079 (Sahih)
- Point 8: Sahih al-Bukhari 2076 (Sahih) and Sunan Ibn Majah 2202 (Sahih (Darussalam))
- Point 9: Sahih al-Bukhari 2087 (Sahih)
- Point 10: Sunan Abu Dawud 3326 (Sahih (Al-Albani))
- Point 11: Sunan Abu Dawud 3460 (Sahih (Al-Albani))
- Point 12: Sahih al-Bukhari 2142 (Sahih)
- Point 13: Sahih al-Bukhari 2139 (Sahih)
- Point 14: Sahih al-Bukhari 2150 (Sahih)
- Point 15: Sahih al-Bukhari 2148 (Sahih)
- Point 16: Sunan Abu Dawud 3503 (Sahih (Al-Albani))
- Point 17: Sahih al-Bukhari 2236 (Sahih)
- Point 18: Sahih Muslim 1598 (Sahih) · Jami' at-Tirmidhi 1206 (Hasan (Darussalam))
