Etiquette & Sunnahs of the Masjid in the Quran & Sunnah

7
Adab & Sunan

Etiquette & Sunnahs of the Masjid in the Quran & Sunnah

آداب وسنن المسجد في ضوء القرآن والسنة

Manners of going to, entering and sitting in the mosque.

حصہ اول: قرآنِ کریم کی روشنی میں مسجد کے آداب

1۔ مساجد کو آباد رکھنا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ

ترجمہ: ’’اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔‘‘

حوالہ: سورۃ التوبہ، آیت 18۔

عملی سبق: مسجد کو نماز، عبادت، ذکر اور دینی تعلیم کے ذریعے آباد کرنا چاہیے۔ اس کی صفائی، حفاظت اور جائز ضروریات کا خیال رکھنا بھی مسجد کی خدمت میں شامل ہے۔

2۔ مسجد میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ

ترجمہ: ’’ان گھروں میں جن کے بلند کیے جانے اور جن میں اللہ کا نام ذکر کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔‘‘

حوالہ: سورۃ النور، آیت 36۔

عملی سبق: مسجد میں نماز، قرآن کی تلاوت، ذکر اور دینی تعلیم جیسے مقاصد کو اہمیت دینی چاہیے۔

3۔ مسجد کو عبادت کے لیے خاص رکھنا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا

ترجمہ: ’’اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں، لہٰذا اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔‘‘

حوالہ: سورۃ الجن، آیت 18۔

سبق: عبادت اور دعا میں اللہ تعالیٰ ہی کو پکارنا چاہیے۔ مسجد کو اللہ کی عبادت اور اس کی رضا کے لیے استعمال کیا جائے۔

4۔ مسجد جاتے وقت پاکیزہ اور مناسب لباس پہننا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ

ترجمہ: ’’اے اولادِ آدم! ہر مسجد کے وقت اپنی زینت اختیار کرو۔‘‘

حوالہ: سورۃ الاعراف، آیت 31۔

عملی سبق: نماز کے لیے صاف، مناسب اور ستر ڈھانپنے والا لباس پہننا چاہیے، اور مسجد میں آتے وقت ظاہری صفائی اور وقار کا خیال رکھنا چاہیے۔

مسجد میں داخل ہونے کے آداب

5۔ مسجد میں داخل ہونے کی دعا پڑھنا

حضرت ابو حمید یا ابو اسید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے:

اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

ترجمہ: ’’اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘

عملی سبق: مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ مسنون دعا پڑھنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت و قبولیت کی امید رکھنی چاہیے۔

6۔ بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد پڑھنا

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ»

ترجمہ: ’’جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔‘‘

ضروری وضاحت: اگر فرض نماز کی اقامت ہو چکی ہو تو الگ تحیۃ المسجد شروع کرنے کے بجائے جماعت میں شامل ہوں۔ اس بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اقامت کے بعد فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں۔

مسجد میں صفائی اور پاکیزگی کے آداب

7۔ مسجد کو صاف رکھنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق پوچھا، اور پھر اس کی قبر پر جا کر اس کے جنازے کی نماز ادا فرمائی۔

عملی سبق: مسجد کی صفائی کرنے والوں کی خدمت کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ صفائی کے کام میں حصہ لینا، کوڑا مناسب جگہ ڈالنا اور مسجد کو صاف رکھنا اچھے اسلامی آداب ہیں۔

8۔ مسجد میں گندگی اور ناپاکی سے بچنا

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے روکنا چاہا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے مکمل کرنے دیا، پھر اس جگہ پانی بہانے کا حکم دیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ مساجد پیشاب اور گندگی کے لیے نہیں، بلکہ اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہیں۔

سبق: مسجد میں پیشاب، کوڑا یا دوسری ناپاک چیزیں ڈالنا ممنوع ہے۔ اگر کوئی چیز گندگی پھیلا دے تو اسے درست طریقے سے صاف کیا جائے۔

9۔ مسجد میں تھوکنے سے اجتناب کرنا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا»

ترجمہ: ’’مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفارہ اسے دفن کرنا ہے۔‘‘

وضاحت: یہ روایت اس زمانے کے زمینی فرش کے تناظر میں ہے۔ آج کی قالین والی یا پختہ مسجد میں تھوکنے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر گندگی ہو جائے تو اسے مناسب طریقے سے صاف کرنا چاہیے؛ قالین میں دبا دینا یا چھوڑ دینا درست نہیں۔

10۔ مسجد میں بدبو کے ساتھ آنے سے بچنا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص لہسن کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، کیونکہ اس کی بو لوگوں کو تکلیف دیتی ہے۔

عملی سبق: مسجد میں آنے سے پہلے منہ، جسم اور لباس کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ حدیث کا مقصد لہسن یا پیاز کو ہر حال میں حرام قرار دینا نہیں، بلکہ بدبو کے ذریعے نمازیوں اور فرشتوں کو تکلیف سے بچانا ہے۔ اس اصول کا اطلاق دوسری شدید ناگوار بدبوؤں پر بھی کیا جا سکتا ہے۔

مسجد میں نماز کے آداب

11۔ نماز باجماعت کا اہتمام کرنا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً»

ترجمہ: ’’جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔‘‘

سبق: مردوں کے لیے، شرعی عذر نہ ہونے کی صورت میں، جماعت کے ساتھ نماز کا اہتمام کرنا چاہیے۔

12۔ مسجد کی طرف پیدل جانے کی فضیلت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے اور پھر اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر کی طرف فرض نماز ادا کرنے کے لیے چلے تو اس کے دو قدموں میں سے ایک سے گناہ مٹتا ہے اور دوسرے سے درجہ بلند ہوتا ہے۔

عملی سبق: مسجد کی طرف جانے کو عام آمد و رفت کے بجائے عبادت سمجھنا چاہیے۔ راستے میں سلامتی، صفائی اور دوسرے لوگوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

13۔ نماز پڑھنے والے کے سامنے سے نہ گزرنا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والے کو اپنے اس عمل کی سنگینی معلوم ہو جائے تو وہ سامنے سے گزرنے کے بجائے انتظار کرنا بہتر سمجھے۔

سبق: مسجد میں نماز پڑھنے والے کے سامنے سے نہیں گزرنا چاہیے۔ مناسب جگہ سے گزرنے یا نمازی کے سترے سے آگے گزرنے کے احکام کی تفصیل فقہ میں موجود ہے؛ ہر فاصلے کو ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔

14۔ دوسروں کی نماز میں خلل نہ ڈالنا

رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں لوگوں کو بلند آواز سے قرآن پڑھتے سنا تو فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے؛ لہٰذا کوئی دوسرے کو تکلیف نہ دے اور تلاوت میں ایک دوسرے پر آواز بلند نہ کرے۔

سبق: مسجد میں گفتگو، موبائل فون، تلاوت یا دوسری سرگرمیوں کی آواز اس قدر بلند نہیں کرنی چاہیے کہ دوسرے نمازیوں کی نماز یا تلاوت میں خلل پڑے۔

جمعہ کے دن مسجد کے آداب

15۔ جمعہ کے لیے جلدی مسجد پہنچنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل کر کے پہلی گھڑی میں مسجد جائے، اسے اونٹ قربان کرنے جیسا اجر ملتا ہے؛ اس کے بعد آنے والوں کے اجر کی مثال حدیث میں مختلف جانوروں کی قربانی سے دی گئی ہے۔

سبق: جمعہ کے لیے وقت سے پہلے مسجد پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے، مناسب تیاری کرنی چاہیے اور خطبہ شروع ہونے سے پہلے اپنی جگہ پر بیٹھ جانا چاہیے۔

16۔ خطبہ جمعہ کے دوران خاموش رہنا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب امام خطبہ دے رہا ہو اور کوئی شخص اپنے ساتھی سے صرف یہ کہے کہ خاموش رہو، تب بھی اس نے لغو کام کیا۔

Reference

Adab No. 7 — all evidences for this entry, taken from the DeenHub Global library. Open any link to read the original hadith or ayah in full.

Support DeenHub Global

This platform is free for everyone and community-supported, with no commercial sponsor. Your support keeps it online and growing.

Donate to Support Our Mission